11 اگست 2026 - 18:31
امریکی فوج کا ٹرمپ کو انتباہ: آبنائے ہرمز میں فوجی کارروائی بھاری جانی نقصان کا باعث بن سکتی ہے

امریکی فوجی حکام نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے فوجی کارروائی طویل، مہنگی اور انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے اور اس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوسکتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی فوجی حکام نے ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی بھی فوجی کارروائی کے نتیجے میں امریکا کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔

امریکی ٹی وی نیٹ ورک این بی سی نے دو امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج کے انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایران کی اسٹریٹجک ترجیح جوہری پروگرام سے تبدیل ہوکر آبنائے ہرمز پر مرکوز ہوگئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، امریکی فوجی حکام نے ٹرمپ کو بتایا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کرسکتا ہے، تاہم ایسی کارروائی طویل، خونریز اور انتہائی مہنگی ثابت ہوگی۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق، اس کارروائی میں امریکا کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں ہے اور فوجی منصوبوں میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے حکم دیے جانے کی صورت میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوسکتے ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق، ایسی وسیع فوجی کارروائی کے خطرات ان عوامل میں شامل ہیں جنہیں ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے آئندہ اقدامات پر اپنے مشیروں کے ساتھ گفتگو کے دوران زیرِ غور رکھا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تین یورپی اور خلیج فارس کے ممالک سے تعلق رکھنے والے دو عرب عہدیداروں نے بھی اس جائزے سے اتفاق کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت کے ذریعے کھولنے کی امریکی کوشش طویل اور خطرناک کارروائی بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق امریکی جنگی بحری جہاز کروز میزائلوں یا ڈرونز کا نشانہ بھی بن سکتے ہیں۔

ان عہدیداروں نے مزید کہا کہ ایسی کارروائی سے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے اور اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس کا نتیجہ واضح اور فیصلہ کن امریکی فتح کی صورت میں نکلے گا۔ ان کے مطابق، امریکا کے یورپی اور مشرق وسطیٰ کے اتحادی جنگ کے دوران ہی واشنگٹن کو اپنے ان خدشات سے آگاہ کرچکے ہیں۔

این بی سی کی رپورٹ میں ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات اور ان مذاکرات میں امریکا کے پس منظر میں چلے جانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دو یورپی عہدیداروں کے مطابق ایران کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کے کنٹرول کے باعث مذاکرات میں اسے برتری حاصل ہے اور وہ اس دباؤ کے ذریعے کو اپنے جوہری پروگرام سے بھی زیادہ مؤثر سمجھتا ہے۔

ٹرمپ حکومت کے اس دعوے کے باوجود کہ امریکا نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، امریکی میڈیا کی رپورٹ میں اعتراف کیا گیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمد و رفت میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ بحری جہازوں کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے اعداد و شمار بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

رپورٹ میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر مذاکرات میں تعطل کی وجہ ایران کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی شرائط کو قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا جنگ کو مستقل طور پر ختم نہیں کرتا، ایران کے اطراف سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلاتا، ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، ایران کے منجمد اثاثے بلاشرط آزاد نہیں کرتا اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہیں کرتا۔

این بی سی کی رپورٹ میں آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھولنے کے حوالے سے امریکی حکومت کو درپیش خطرات کے علاوہ پینٹاگون کے میزائل شکن ذخائر میں کمی اور ایران کے خلاف جنگ کی امریکا میں بڑھتی ہوئی عدم مقبولیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس اور نورک کے نئے سروے کے مطابق، دو تہائی امریکی بالغ افراد کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ اس قابل نہیں تھی۔ ان میں ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرز کی واضح اکثریت کے علاوہ ریپبلکنز کے تقریباً 37 فیصد افراد بھی شامل ہیں۔

ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی دی تھی، تاہم بعد میں وہ اس منصوبے سے پیچھے ہٹ گئے۔

ٹرمپ حکومت نے گزشتہ دنوں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ امریکا ایران پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ بعض سابق امریکی عہدیداروں کے مطابق اس مؤقف کو ایران کو رعایتوں پر مجبور کرنے کے لیے فوجی دباؤ کی ناکامی کے بالواسطہ اعتراف کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

این بی سی کے حوالے سے یورپی عہدیداروں نے کہا کہ ایرانی حکومت امریکی اور اس کے اتحادیوں کی توقع سے کہیں زیادہ دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق ایران نے شدید بمباری اور بحری ناکہ بندی کے باوجود اپنی مزاحمت برقرار رکھی ہے اور ملک کے اندر بھی امور پر مضبوط کنٹرول قائم رکھا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha